Talib Hussain Drd

Performing Arts

السلام علیکم۔
آپ کو طالب حسین درد کے پیج پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔
ایڈمن: عمران طالب
رابطہ نمبر:6501479-0300


السلام علیکم۔
خانصاحب طالب حسین دردً آف خانوآنہ (ضلع جھنگ)
خانصاحب طالب حسین دردً کا شمار اُن چند گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی گائیکی سے پنجاب اور پنجابی زبان کو امر کر دیا۔ خانصاحب طالب حسین دردً صاحب تقریباً پچھلے 50سال سے گائیکی کے اس میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں ۔ آج سے تقریباً 50سال پہلے بھی اُن کا پورے پنجاب میں طوطی بولتا تھا اور آج کے اس جدید دور میں بھی خانصاحب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ خانصاحب نے اُس دور میں اپنا ایک نام بنایا جب نہ کیسٹ تھا نہ سی ڈی اور نہ ہی انٹرنیٹ جیسی جدید سہولیات تھیں۔ اُس دور میں اپنا نام بنانا اور شہرت حاصل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ لیکن خانصاحب پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا کہ وہ اُس وقت بھی پورے پنجاب میں سُنے اور جانے جاتے تھے۔اُس وقت شادی ، میلوں پر گلوکاروں کی ایک لمبی لسٹ ہوتی تھی اور ہر کوئی اپنا فن اچھے سے اچھے طریقے سے پیش کرتا تھا ۔ خانصاحب نے پنجاب بھرکے مشہور میلوں میں پروگرام کئے لیکن اُن کی شہر ت کا سبب میلہ نورپور تھل بنا۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور دنیا میں تھوڑی جدت آئی اور ریڈیو اور ٹیپ کا دور آگیا ۔ اس دور نے خانصاحب کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ آئے روز خانصاحب کا نیا کیسٹ مارکیٹ میں آتا اور لوگ بڑی تعدار میں خریدتے اور سٹوڈیو والے خانصاحب سے کیسٹ کروانے کے لیے اُن کے پیچھے پیچھے ہوتے تھے۔ کیوں کہ جس سٹوڈیو یا کیسٹ ہاؤس سے خانصاحب کا کیسٹ نکلتا تھا وہ بھی مشہور ہو جاتا تھا۔ شادیاں ہوں ، میلہ ہوں یا خوشی کا کوئی اور موقعہ وہ خانصاحب کی شرکت کے بغیر پھکا محسوس ہوتا تھا۔
خانصاحب کا مشہور و معروف گیت (کٹورا دہی دا ۔۔۔ ڈھول مہی دا) جب مارکیٹ میں آیا تو پڑوسی
ملک بھارت سے بہت سے خطوط خانصاحب کو موصول ہوئے جس میں اُن کی گائیکی کو سہراہ گیا۔ایک انڈیا کے مشہور و معروف چینل ڈائریکٹر لاہور کے ایک ڈاکٹر کے ہمراہ خانوآنہ آیا اور خانصاحب کو انڈیا آکر پروگرام کی دعوت دی لیکن خانصاحب نے مصروفیات کی وجہ سے قبول نہ کی۔ خانصاحب نے پنجاب بھر کے ہر چھوٹے اور بڑے قصبہ اور شہروں میں جاکر پرفارم کیا ہے اور اپنا
فن لوگوں تک پہنچایا ہے۔
آج کل آپ دیکھتے ہیں کہ کچھ گلوکار راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں اور پھر ایک دم سے بلکل سکرین سے غائب ہو جاتے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُن کو جو بھی اچھی /بری شعری ملتی ہے وہ اُس کو اپنا لیتے ہیں جو بعد میں اُن کے لیے اور اُن کے چاہنے والوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ لیکن خانصاحب نے اِس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے اور اپنی پوری زندگی میں ایسی شعری کا انتخاب نہیں کیا جو بعد میں اُن کے لیے یا اُن کے چاہنے والوکے لیے شرمندگی کا باعث بنے اور یہی وجہ ہے کہ خانصاحب کو پچھلے 50سال سے غیرت مند پنجابی سنتے اور
پسند کرتے آئے ہیں۔
پنجابی شعراء بھی اُن کو اپنی شعری کی کتاب یا کاپی دینے سے پہلے کئی بار سوچتے اور اپنی شعری کو پڑھتے تھے کہ کہیں اِ س میں ایسا کوئی لفظ نہ ہو جو ہماری پنجابی زبان کی نفی کرتا ہو اور خانصاحب جس کو پسند نہ فرماتے ہوں۔ اس لیے خانصاحب نے اچھے اچھے شعراء کی شعری پڑھی اور اُن کو بھی شہرت کی
بلندیوں تک پہنچایا۔
سنگر اکیلا کچھ نہیں ہوتا اُس کے (Muscian)بہت اہم رول ادا کرتے ہیں کیوں نہ کہ یہ ایک ٹیم ورک ہوتا ہے۔ خانصاحب نے اِس شعبہ میں بھی بہت اچھے اور تجربہ کار Muscian اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں جو خانصاحب کی گائیکی کو بڑی بریکی سے جانتے ہیں اور اُن کے ہر
گانے کے مطابق میوزک بجاتے ہیں۔
کیسٹ کے بعد جب DVDکا زمانہ آیا تو خانصاحب نے اپنے کئی ڈی وی ڈی البم نکالے جو بہت مقبول ہوئے ۔
سنہ1999میں اپنے بڑے بیٹے عمران طالب کے شوق اور ذوق کو دیکھتے ہوئے اُن کو گائیکی کی فیلڈ میں متعارف کروایا۔ اُن کا گائیکی کی فیلڈ میں آنا تھا کہ ساتھ ہی کامیاب ہونا تھا، پہلا کیسٹ جو خانصاحب اور اُن کے بیٹے عمران طالب نے مل کر نکالا تھا وہ بہت پسند کیا گیا اور اُس کیسٹ نے ریکارڑ کاروبار کیا۔ خانصاحب طالب حسین دردً اور اُن کا بڑا بیٹا جب مل کر گاتے ہیں تو آڈیو میں محسوس نہیں ہوتا کہ دو آدمی مل کر گا رہے ہیں یا ایک آدمی گا رہا ہے۔ بلکہ خانصاحب کی اور عمران طالب کی آواز آپس میں بہت مماثلت رکھتی ہے جس کا خانصاحب طالب حسین دردً صاحب نے بھی کافی پروگرام میں ذکر بھی کیا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں ہی آپ سننے والوں کو ایک نیا طالب حسین دردً دے دیا ہے۔
عمران طالب پچھلے 16-17سال سے اپنے والد خانصاحب طالب حسین دردً صاحب کے مل کر گا رہے ہیں اور ابھی تک عمران طالب کے ذاتی طور پر بھی کچھ البم مارکیٹ میں آچکے ہیں۔
کچھ گلوکار جب شہرت حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر بڑے شہروں میں ہجرت کر جاتے ہیں تاکہ وہ میڈیا پر آکر شہرت حاصل کر سکیں لیکن خانصاحب وہ آدمی ہیں جنہوں نے شہرت کی تو بلندیوں کو چھوا لیکن اِس چیز کو نہیں اپنایا اور اپنے آبائی گاؤں خانوآنہ سے جھنگ تک بھی ہجرت نہیں کی۔ اپنے گاؤں میں رہے کر دلی خوشی محسوس کرتے ہیں اور اپنی زندگی انجوائے کرتے
ہیں۔
اب گائیکی سے ہٹ کر کچھ باتیں آپکو خانصاحب طالب حسین دردً صاحب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ خانصاحب جدمتِ خلق سے سرشار ہیں۔ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کرکے دلی خوشی محسوس کرتے ہیں ، تھانہ کچہری لیول پر ہر کسی کی جائز مدد کرتے ہیں ۔ اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے ہر سال میلہ خواج حسین کا انقعاد کرتے ہیں جس پر اپنا سپیشل پروگرام رکھتے ہیں اور اپنے گاؤں
اور علاقہ کے لوگوں کو اُس میں دعوت عام دیتے ہیں۔
اِس کے علاوہ خانصاحب کو گھوڑا ڈانس /نیزہ بازی سے بھی دلی لگاؤہے اور خانصاحب نے اپنے ڈیرہ پر کئی نسلوں کے نایاب گھوڑے پال رکھے ہیں ۔ جن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اُنکے دوسرے بیٹے جناب حسنین طالب کی ہے۔ حسنین طالب نیزہ بازی /گھوڑا ڈانس میں کافی مہارات اور تجربہ رکھتے ہیں اور پنجاب بھر کے بڑے بڑے میلوں پر خانصاحب کے گھوڑے نیزہ بازی/گھوڑا ڈانس میں حصہ لیتے ہیں۔ خانصاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا زغیم عباس ابھی تعلیم
حاصل کر رہا ہے اور وہ بی۔اے کا سٹوڈنٹ ہے۔
خانصاحب کی زندگی پر اگرمیں لکھتا جاؤں تو شاید ایک کتاب لکھ دوں لیکن اب تحریر لمبی ہو رہی ہے اس لیے اس دعا کہ ساتھ اختتام کرتے ہیں کہ اللہ پاک خانصاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رہے۔ امین تحریر:ظہیر عباس آف گول پور تحصیل پنڈ دادنخان