Jago Sunni Jago

Book


وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ


اور (اے نبی!) ان لوگوں کو چھوڑ دیجیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے، اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے، تا کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں کے وبال سے ہلاک نہ کیا جائے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کا دوست اور سفارشی نہ ہو گا۔ اور اگر وہ بدلے میں ہر طرح کا فدیہ دے تو وہ بھی اس سے نہیں لیا جائے گا، یہی وہ لوگ ہیں جو کچھ انہوں نے کمایا، اس کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ اور جو وہ کفر کرتے رہے ہیں اس کی وجہ سے انہیں دوذخ میں تیز گرم پانی پینے کو ملے گا، اور دردناک عذاب ہو گا۔
[Al-Quran 6:70]

7:39
“غدارِ پاکستان” ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی اصل حقیقت: شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا " وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو ، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے " یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق پر پوری طرح صادق آتا ہے . جس نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا . اسے 10 دسمبر 1979ء کو نوبیل پرائز ملا ، قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ " الفضل " نے لکھا تھا کہ جب اسے نوبیل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گیا اور اپنے متعلق مرزا غلام قادیانی کذاب کی پیش گوئی پر اظہار تشکر کیا . اس موقع پر مرزا قادیانی کذاب کی بعض عبارتوں کو کھینچ تان کر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق پر چسپاں کیا گیا اور فخریہ انداز میں کہا گیا کہ یہ دنیا کا واحد موحد سائنس دان ہے جسے نوبل پرائز ملا ہے ، حالانکہ اسلام کی رو سے رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر بڑے سے بڑا موحد کافر ہے . ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا منکر تھا ، وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنجہانی مرزا غلام قادیانی کذاب ( جس سے انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نبوت کا اعلان کروایا تھا ) کو اللہ کا آخری نبی مانتا تھا اور اس طرح وہ اپنے عقائد کی رو سے دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر اور صرف اپنی جماعت کہ لوگوں کو مسلمان سمجھتا تھا . چونکہ قادیانیت مخبروں اور غداروں کا سیاسی گروہ ہے لہذا اس کی سرپرستی کرتے ہوۓ سامراج نے ان کے ایک فرد کو نوبیل انعام دیا ، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک رشوت ہے جو یہودیوں نے قادیانیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے دی . ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کو اپنی جماعت کی خدمات پر " فرزند احمدیت " بھی کہا جاتا ہے وہ اپنی جماعت کے ( اس وقت کے سربراہ ) مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے وفات تک مجلس افتاء کا باقاعدہ ممبر رہا ، اس کا ماموں حکیم فضل الرحمن 20 سال تک گھانا اور نائجیریا میں قادیانیت کا مبلغ رہا ، اس کا والد چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں اسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعنیات ہوا ، قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود نے اسے قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کر دیا جس میں تحصیل ملتان ، وہاڑی ، کبیر والا ، خانیوال ، میلسی ، شجاع آباد اور لودھراں کی تحصیلیں شامل تھیں . ایک دفعہ اس نے خانیوال میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوۓ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزا قادیانی کا ( نعوز باللہ ) موازانہ شروع کیا تو اجتماع میں ماجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انہوں نے اشتعال میں آکر پورا جلسہ الٹ دیا ، چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر جوتے بھی مارے ، پولیس نے چوہدری محمد حسین کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا . دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی پولیس افسر نے مداخلت سے اس کی رہائی کروائی . تحریک پاکستان کا مشہور غدار خضر حیات ٹوانہ ضلع سرگودھا کا بہت بڑا جاگیردار اور یونیسٹ سیاست دان تھا ، اس نے اپنی ریاست " کہلرا " میں جہاں ہزاروں مزدروں ، کسان اسکی ہزاروں ایکڑ اراضی پر محنت ومشقت کرتے تھے ، کبھی کوئی سکول نہ کھلنے دیا . اس خضر حیات ٹوانہ نے حکومت برطانیہ کو جنگ عظیم میں مدد دینے کے لئے 3 لاکھ روپے کا فنڈ اکٹھا کیا . مگر 1945ء میں جنگ عظیم اختتام کو پہنچ گئی جس کے بعد وہ 1946ء میں کانگریس پارلیمنٹری کے ساتھہ مخلوط وزارت کے زیر اہتمام پنجاب کا وزیر اعلی بنا دیا گیا . چونکہ اس کا جمع کیا ہوا جنگی فنڈ تاحال کسی مصرف میں نہ آسکا ، اس لئے اس نے انگریز کی تعلیمی پولیسی کے مطابق چھوٹے زمینداروں کے بچوں کو بیرون ملک اعلی تعلیم کے لئے بیجھنے کے لئے وظائف کا اجرا کیا ، اس مقصد کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کو بیرون ملک تعلیم کے لئے یہ وظیفہ مل جائے ، اس کے والد نے سر ظفر اللہ خان قادیانی جو ان دنوں واسرائے کی کونسل کا ممبر تھا کی سفارش پر ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر سے ایک سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا کہ گورداسپور میں اس کی اراضی ہے جو اسے اس کے بھائی نے دی ہے جو اسی ضلع میں رہائش پذیر ہے اس طرح دوسرے امیدواروں کی طرح ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق بھی وہ وظیفہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا . یہ وظیفہ تین سال کی مدت کے لئے مخصوص تھا اور اس کی قیمت تین سو پچھتر پاونڈ سالانہ تھی ، اس زمانے کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق ایک برطانوی پاونڈ تیرہ روپے کا ہوا کرتا تھا ، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق نے اس وظیفے کے حصول کی کوشش کے ساتھہ ہی کیمبرج داخلے کی درخواست بھیج دی تھی ، جب اس کے ساتھ سکالرز کو اگلے سال ( یعنی 1947ء ) کیمبرج میں داخلہ دینے کا وعدہ کیا گیا تو عبدالسلام قادیانی زندیق کو اسی دن یعنی 3 ستمبر 1946ء کو کیمبرج کی طرف سے ایک لیٹر موصول ہوا جس میں اسے اطلاع دی گئی تھی کہ سینٹ جان کالج میں اس کے لئے ایک غیر متوقع خالی جگہ ماجود ہے ، یوں قادیانی زندیق کا کیمبرج میں داخلہ ہوگیا . قادیانی زندیق جب برطانیہ پہنچا تو لیورپول کی بندرگاہ پر جو شخص اسے سب سے ملا ، وہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی تھا . ڈاکٹرعبدالسلام قادیانی زندیق 1948ء میں اپنی شادی کے سلسلے میں واپس پاکستان آنا چاہتا تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا کر قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے اسے منع کر دیا ، 1949ء میں وہ پاکستان واپس آیا تو میاں افضل حسین جو پنجاب کے سابق وزیر اعلی سر فضل حسین کا چھوٹا بھائی تھا ان دنوں پبلک سروس کمیشن کا چئیرمین تھا ، اس نے کمال مہربانی کرتے ہوۓ قادیانی زندیق کے سکالرشپ میں توسیع کر دی ، اسی سال گرمیوں میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کی پہلی شادی اپنے چچا غلام حسین کی بیٹی امت الحفیظ بیگم سے ہوئی ، شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد وہ واپس برطانیہ چلا گیا . اس نے 1951ء میں دوبارہ واپس آکر گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت کا آغاز کیا . گورنمنٹ کالج میں پروفیسری کے دور میں قادیانی زندیق کو کیمبرج یونیورسٹی نے لیکچرشپ کے عہدے کی پیشکش کی تو قادیانی زندیق نے اسے بخوشی قبول کر لیا ، لہذا بمطابق حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن نمبر 6075/2 مورخہ 16 فروری 1954ء قادیانی زندیق کو مندرجہ ذیل شرائط پر کیمبرج میں ڈیپوٹیشن پر لیکچررشپ کے عہدہ پر کام کرنے کی اجازت دے دی گئی : گورنر پنجاب کی جانب سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق ایم اے ( پنجاب ) بی اے ( کیبنٹ ) پی ایچ ڈی ( کیبنٹ ) پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور کی خدمات بخوشی تین سال یا اس سے کم ( اگر وہ جلدی ہی پاکستان واپس آگئے ) مدت کے لئے بحثییت ریاضی سٹوکس لیکچرر یکم جنوری 1954ء سے کیمبرج کے سپرد کی جاتی ہے . ڈاکٹرعبد السلام قادیانی زندیق کی کیمبرج میں تقریری کی شرائط حسب ذیل ہونگی : سینٹ جان کالج کی فیلوشپ : 300 پاونڈ .....یونیورسٹی میں بحثییت لیکچرر تنخواہ : 450 پاونڈ .... دیگر الاؤنس : 50 پاونڈ .... کل : 800 پاونڈ اس کے علاوہ اسے سینٹ جان کالج کی طرف سے ایک اپارٹمنٹ دیا گیا جہاں وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھہ منتقل ہوگیا ، یاد رہے یہاں رہائش اور کھانا مفت تھا . جو لوگ اسے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کی جلاوطنی کا نام دیتے ہیں ، انہیں اس حقیقت کے پیش نظر اپنے من گھڑت مفروضے پر نظر ثانی کرکے پوری قوم سے معذرت خواہ ہونا چاہیے . ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کی پرزور فرمائش پر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی ( ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی ) کو صدر ایوب نے 1958ء میں اپنے دورحکومت میں ایٹمی توانائی کمیشن کا رکن بنایا اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس کا چیئرمین بنا دیا گیا ، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق نے امپیریل کالج لندن کے ریکٹر سر پیٹرک لنسٹیڈ کی ملی بھگت سے 500 کے قریب نیوکلئیر فزکس ، ریاضی ، صحت وطب اور حیاتیات کے طلبہ اور ماہرین کو بیرونی ممالک بلخصوص امریکہ اور برطانیہ کے تحقیقی مرکز میں حکومت کے خرچ پر اعلی تحقیق وتعلیم کے لئے بیجھنے کا منصوبہ بنایا ، ان طلبہ اور ماہرین کی اکثریت قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی ، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق نے ڈاکٹر عثمانی سے اس منصوبہ کو منظور کرواکے ان لوگوں کو باہر بجھوا دیا جو واپس آکر ملک کے حساس اداروں کلیدی عہدوں بلخصوص ایٹمی انرجی کمیشن میں فائز ہوگئے . اس کے برعکس امریکی تعلیمی اداروں کے نیوکلئیر فزکس کے شعبہ میں مسلمان بلخصوص عرب طلبہ پر پابندی ہے جو اب تک برقرار ہے ، یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1974ء تک جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے ، ایٹمی قوت بننے کے سلسلے میں معمولی سا کام بھی نہیں ہوا ، حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط بنائی جائے لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہوۓ تو پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی . اسلام دشمن قوتوں کو ہمیشہ ہی ایسے بدقماش اور ننگ وطن آلہ کاروں کی ضرورت رہی ہے ، جو ملت اسلامیہ کے حساس اور خفیہ معاملات کی مخبری کرکے ان کے ناپاک عزائم کو پایا تکمیل تک پہنچائیں ، اس مقصد خبیثہ کے لئے انہیں اپنے پرانے نمک خوروں کا مکمل تعاون حاصل رہا ہے ، جنھیں انہوں نے اپنے خزانہ عامرہ کا منہ کھول کر ہر قسم کی پرتعیش مراعات فراہم کیں ، بلاشبہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق بھی ایسے ہی ضمیر فروش لوگوں میں شامل تھا . دوسرے شعبوں کی طرح نوبیل انعام میں بھی یہودیوں کی اجاراداری ہے ، ان کا غرور ، نخوت اور تعصب کسی ایسے شخص کو خاطر میں نہیں لاتا جو ان کی شازشوں اور مکروہ سرگرمیاں کا حامی اور الہ کار نہ ہو ، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق ، یہودیوں کے اس میرٹ پر سو فیصد پورا اترتے تھے ، لہذا انہوں نے ایک شازش کے تحت قادیانی زندیق کو نوبیل انعام سے نوازا اور اس کی آڑ میں اپنے خفیہ مقاصد حاصل کیے ، قادیانی زندیق نے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے اور تمام دوسرے محب وطن سائنس دانوں کو بے حوصلہ کرنے کے متعدد اقدامات کیے ، پاکستان کے تمام ایٹمی راز ملک دشمن ممالک کو فراہم کیے . انہیں کہوٹہ ایٹمی سنٹر اور دوسرے حساس قومی معاملات کی ایک ایک خبر پہنچائی ، دراصل وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کبھی دفاع کے معاملے میں خود کفیل نہ ہوسکے اور ہمیشہ بڑی طاقتوں کا دست نگر رہے . گوئبلز نے کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو ، اتنا جھوٹ بولو کے اس پر سچ کا گمان ہونے لگے ، بلکل یہی فلسفہ قادیانی زندیق کے متعلق اپنایا گیا ، ہمارے نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اس " غدار پاکستان " کو ہیرو بنا کر پیش کیا جو انتہائی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے ، قادیانی زندیق کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والے ان عقل کے اندھوں سے پوچھنا چاہیے کہ قادیانی زندیق نے مختلف ادوار میں حکومت پاکستان سے تمام تر مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پوری زندگی " تحقیق " کے نتیجے میں عالم اسلام بلخصوص پاکستان کو کیا تحفہ دیا ؟؟؟ . اس کی کون سی ایجاد یا دریافت ہے ؟ ، جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ، اس کا کون سا کارنامہ ہے جس سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا ؟؟ اس کی کون سی ایسی خدمت ہے جس سے اہل پاکستان کے مسائل میں ذرا سی کمی واقع ہوئی ؟؟ اس نے کون سا ایسا تیر مارا جس پر اسے نوبیل انعام سے نوازا گیا ؟؟ یہ سوالات آج تک تشنہ جوابات ہیں . ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق مسلمانوں کو کیا سمجھتا تھا ؟ اس سلسلے میں معروف صحافی وکالم نویس جناب تنویر قیصر صاحب نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ میں اپنی ذاتی معاملات میں بتایا ، یہ واقعہ انہی کی زبانی سنئیے : کہتے ہیں کہ " ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا میرے دوست نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کا تفصیلی انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیلات کے ساتھہ جوابات دیے انٹرویو کے دوران میں بلکل خاموش ، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال وجواب سنتا رہا ، دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دستر خوان پر لگانے کا حکم دیا ، انٹرویو کے تقریباً آخر میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق نے مجھے مخاطب کیا اور بولے ، اپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر اپ نے کوئی سوال نہیں کیا ؟ میری خواہش ہے کہ اپ بھی سوال کریں ، ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا چونکہ میرا دوست اپ سے بڑا جامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی نہیں محسوس کر رہا ، ویسے بھی میں اپ کی شخصیت اور اپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں ، میں نے اپ کے متعلق خاصا پڑھا ہے . جھنگ سے لیکر اٹلی تک اپ کی تمام سرگرمیاں میری نظروں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا . اس پر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ پھر اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے " مفتوح " سمجھتے ہوۓ " فاتح " کے انداز میں "حملہ اوار " ہوتے ہوے کہا : نہیں اپ ضرور سوال کریں ، مجھے بہت خوشی ہوگی . بال آخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ اپ وعدہ فرمائیں کہ اپ بغیر کسی تفصیل میں گئے میرے سوال کا دو ٹوک الفاظ ہاں یا نہیں میں جواب دیں گے . ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا : ٹھیک بلکل ایسا ہوگا . میں نے ڈاکٹر سے پوچھا چونکہ اپ قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جو نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بحثییت آخری نبی کی منکر ہے بلکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں . اپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام قادیانی کو نبی نہ ماننے پر اپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں ؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق بغیر کسی توقف کے بولے کہ " میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا " ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق کے اس جواب پر میں نے انہیں کہا کہ میں مزید سوال کرنا نہیں چاہتا . اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دسترخوان سے کھانا اٹھوا دیا ، پھر ڈاکٹر صاحب کو پریشان دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لیکر رخصت ہوۓ " اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی زندیق ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھا ، جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتا رہا ، اس نے پوری زندگی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد کے متصادم ہو ، پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت ، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا اس کی ایمان دوستی کے منافی تھا . For further details in English, Click the link below. http://www.irshad.org/brochures/absalam.php
3 days ago
5:46
پاکستانی نوٹ خواں اور احسان اقبال Vs وھابی عالم مظفر بہاری کچھ دن پھلے ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ھوا جسمیں سعودیہ کے ایک وھابی عالم مظفربھاری نے ھمارے پاکستان کے ایک بریلوی نوٹ خواں کو اپنے ساتھ بٹھا رکھا تھاکہ اتنے میں وڈیو کیمرہ آن کردیاگیا جیسے ہی اس نوٹ خوان نے کیمرہ کو آن ھوتے دیکھا تو فورا اٹھ کر بھاگ کھڑاھوا. وہ وھابی مطوع اس نوٹ خوان کو بات کرنے کے لئے روکتارھا. لیکن وہ صاحب ھاتھ چھوڑا چھوڑا کر رفو چکر ھوگیا. تبصرہ.نجیبی. میں سب سے پھلے ایک بات واضح کردینا چاھتاھوں کہ نہ تو ھم وھابی ھیں اور نہ اس وھابی مطوع کے طرز تبلیغ کو مناسب جانتے ھیں. لیکن فریق مخالف کو بھی اپنی گریبان میں جھانکنا چاھئےکہ کیا وہ اپنی مساجدمیں آنے والے سنی دیوبندیوں کو الگ جماعت کرانے کی اجازت دیں گے.؟ یا جماعت کے ٹائم پر اپنی اکیلے نماز پڑھنے کی اجازت دیں گے.؟ یہ نوٹ خوان اور انکا پورا مسلک مکہ اور مدینہ ( جوکہ اسوقت وھابیوں کے زیرانتظام ھے) جاکر انکے قوانین کی جو دھجیاں اڑاتے ھیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نھیں. مسجد نبوی میں روضہ پاک کے سامنے کھڑے ھوکر اجتماعی طور پر چلا چلاکر بیک آواز میڈان ھندستان درود پڑھ کر کسقدر بے ادبی کا ارتکاب کیاجاتاھے. طواف کے دوران بقول پیر علاؤالدین بریلوی کے وھابیوں کو ماں بھن کی گالیاں دی جاتی اور سکھائی جاتی ھیں.( وڈیوثبوت نیٹ پر موجودھے) وھاں جاکر مقدس مقامات پر کھڑے ھوکر انکے خلاف وڈیوز بناکر نیٹ پر اپلوڈ کی جاتی ھیں. یہ سب غیر قانونی رضاخانی کس اصول کی بنیاد پر کرتے ھیں. پاکستان میں یہی لوگ سعودی حکومت کو کافر گستاخ اور واجب القتل قرار دیتے ھیں. لیکن ان سب کے باوجود انکو وھابی عالم کا صرف یہ انداز برا لگ گیاکہ. اسنے نوٹ خواں کو روک بحث کا مطالبہ کیوں کیا؟ انکی اپنی حالت یہ ھے کہ اپنی مسجدوں میں آنے والے سیدھے سادے تبلیغی دوستوں کو مارا جاتاھے. انکو ڈنڈوں سے پیٹاجاتاھے. انکے بستروں کو گندگی میں پھینکا جاتاھے. اور اب کچھ عرصہ سے تو ظلم کی ایک بھیانک تاریخ رقم کی گئی ھے. برما کاظلم دیکھ کراشرف جلالی بریلوی نے جھاد کی فرضیت کا حکم لگادیا. لیکن جن لوگوں نے چند دن قبل کے چنیوٹ واقعہ کی وڈیوز اورحقیقت دیکھی ھے وہ گواھی دے گا کہ ان تبلیغ والوں پر پھاؤڑے سے حملہ کرکےانکی سروں کو کچل کر قتل کرنا بھی برما والے ظلم سے کم نھیں. لیکن صبر کا یہ عالم رھاکہ ھم آج بھی بریلویت کے خلاف تحقیقی تردید کے علاوہ کسی جنگ کے قائل نھیں. اسی وھابی نے جب معروف بریلوی احسان قادری کو روک کر اسکا نام پوچھاتواسنے اپنا نام صرف احسان بتایا آخرقادری لگانےسے کیوں کتراتے ھو؟ اگر لاج نھیں رکھ سکتے تو اس نسبت کو لگانا بند کردو. باقی میں نے خود تبلیغ میں ایک سال لگایاھے اور کئی دفعہ بریلوی مساجد میں بریلویوں کی طرف سے اس ""منع من المساجدان یذکرفیھااسم اللہ"" سے دوچار رھاھوں. بریلوی اپنی اداؤں پہ غور کریں تو دوسروں پر تنقید کی فرصت نھیں ملے گی. #نجیبیات_سے_ماخوذ #ازنجیب_اللہ_عمر
1 month ago